|
تحریر Administrator
|
|
جمعہ, 22 مئی 2009 22:59 |
چترالصوبہ سرحد کا ایک ضلع۔ چترال پاکستان کے انتہائي شمالي کونے پر واقع ہے۔یہ ضلع ترچ میر کے دامن میں واقع ہے جو کہ سلسلہ کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کي سرحد افغانستان اور سابق رياست ہائے روس سے واخان کي پٹي پر ملتي ہيں۔ رياست کے اس حصے کو بعد ميں ضلع کا درجہ ديا گيا۔ اور صوبہ سرحد کے ملا کنڈ ڈويژن سے منسلک کيا گيا۔ اپنے منفرد جغرافيائي محلِ وقوع کي وجہ سے اس ضلع کا رابطہ ملک کے ديگر علاقوں سے تقريباپانچ مہينے تک منقطع رہتا ہے۔ اپني مخصوص پُر کشش ثقافت اور پُر اسرار ماضي کے حوالے سے ملفوف چترال کي جُداگانہ حيثّيت نے سياحت کے نقطہءنظر سے بھي کافي اہميّيت اختيار کر لي۔ جنگِ افغانستان کے دوران اپني مخصوص جغرافيائي حيثيت کي وجہ سے چترال کي اہميّت ميں مزيد اضافہ ہوا۔ موجودہ دور ميں وسطي ايشيائي مسلم ممالک کي آزادي نے اس کي اہميّت کو کافي اُجاگر کيا۔ رقبے کے لحاظ سے يہ صوبہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔
اس ضلع کے ایک کونے میں ایک علاقہ واقع ہے جو جنجریت کوہ کے نام سے جانا جاتا ہے، جہان چند آثار قدیمہ اب تک موجود ہیں، جن میں تین منزلہ لکڑی اورپتھروں سے بنا ہوا تین عمارتیں موجود ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت سات سو سال قبل کی ہے،
یہاں کے لوگ کھوار نامی زبان بولتے ہیں۔ اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن کافرستان کے علاقے میں غیر مسلم میں بھی آباد ہیں۔
[شماريات
چترال ضلع کا کُل رقبہ14850 مربع کلوميٹر ہے۔
یہاں في مربع کلومیڑ 25 افراد آباد ہيں
سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 378000 تھی
دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔
کُل قابِل کاشت رقبہ 22550 ھيکٹيرزھے
|