|
توانائی کی بحران پر صرف شمسی توانائی کی استعمال سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر جگنیت شرما |
|
|
|
|
پیر, 04 جنوری 2010 10:21 |
|
چترال(گل حماد فاروقی) وطن عزیز اس وقت شدید بحرانوں سے گزررہا ہے جس میں سر فہرست توانائی کی بحران ہے تاہم متبادل ذرائع استعمال کرکے توانائی کی بحران پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے جو پایہ دار ترقی کے راہ میں سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے یہ بات ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے ICIMOD نیپال اور AKRSP چترال کے اشتراک سے ایک روزہ قومی منصوبہ بندی برائے پایہ دار اور متبادل توانائی کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ میں کہی۔ ماہرین نے کہا کہ ملک اس وقت توانائی کی شدید بحران سے دوچار ہے مگر اس پر صرف متبادل اور شمسی توانائی کو فروغ دینے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ ICIMOD اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے گزشتہ سال چترال کے نہایت پسماندہ اور دور آفتادہ گاﺅں مومی میں آزمائشی بنیادوں پر شمسی توانائی سے چلنے والی پانی گرم کرنے کی گیزر، کھانا پکانے کی سٹو، روشنی کیلئے لیمپ وغیرہ گھروں میں تقسیم کئے تھے جس میں مزید بہتری لانے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے مقامی خواتین کو بھی بلائے گئے تھے ورکشاپ میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صوبائی سربراہ خالد خان، انجنئیر سردار آیوب ریجنل پروگرام منیجرAKRSP، ڈاکٹر عنایت اللہ چوہدری، پروفیسر بیکاش شرما کو آرڈینٹر ICIMOD ، پروفیسر ڈاکٹر جگناتھ شریستا کنسلٹنٹ ICIMOD، فرید احمد، شاہد ندیم، اور دیگر ماہرین نے اظہار حیال کیا۔ انہوںنے کہا کہ چترال کے مومی گاﺅں میں شمسی توانائی سے چلنے والے گھریلوں آلات مقامی لوگوں کو رعایتی نرحوں پر فراہم کئے جائیں گے اور ان کو ان آلات کے چلانے اور استعمال کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ Rangeland پانے والے علاقوں میں شمسی توانائی نہایت کامیابی سے چل رہا ہے جو چین، ہندوستان، نیپال، سری لنکا وغیرہ میں استعمال ہورہی ہیں۔ انہوںنے کہا شمسی توانائی سے چلنے والی یہ گھریلوں آلات ایک طرف مقامی لوگوں کو سہولت فراہم کرتی ہیں تو دوسری طرف توانائی کی بحران پر بھی آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل میں اس پر بڑے بڑے منصوبے مرتب کئے جائیں گے۔ ورکشاپ میں کثیر تعداد میں ماہرین ، سرکاری افسران، غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں ، مقامی لوگ جن میں خواتین بھی شامل تھے نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ چونکہ چترال کے بالائی علاقوں میں بجلی بھی دستیاب نہیں ہے اور گیس کی بھی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ جہاں مقامی لوگ کسی متبادل توانائی کے تلاش میں تھے اور اس کا حل AKRSP اور ICIMOD نے شمسی توانائی سے چلنے والے گھریلو آلات متعارت کرانے اور اسے کامیاب کرانے میں تلاش کی جو نہایت کامیابی سے چل رہا ہے ورکشاپ میں شریک مومی گاﺅں کی ایک عمر رسیدہ خاتون دولت بی بی نے کہا کہ ہم لوگ کھانا پکانے، پانی گرم کرنے اور گھروں کو روشن رکھنے میں نہایت مشکلات سے گزررہے تھے جب سے شمسی توانائی سے چلنے والے گھریلوں آلات ہمیں دیئے گئے ہیں ہماری زندگی نہایت آسان ہوئی اور اب ہم آسانی سے کھانا پکاسکتے ہیں اور گھروں کو گرم رکھ سکتے ہیں۔
|